Home Cricket کوچنگ کا تجربہ نہ رکھنے والوں کو بڑی بڑی باتیں نہیں کرنی...

کوچنگ کا تجربہ نہ رکھنے والوں کو بڑی بڑی باتیں نہیں کرنی چاہیے! عاقب جاوید نے شعیب اختر کو کھری کھری سنا دی

لاہور قلندرز کے ہیڈ کوچ عاقب جاوید نے سابق فاسٹ بولر شعیب اختر کی جانب سے کیے گئے ان تبصروں پر شدید تنقید کی جن میں ان کا کہنا تھا کہ اگر وہ انچارج ہوتے تو لاہور قلندرز کو پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کا ٹائٹل جیت سکتا تھا۔ 48 سالہ عاقب جاوید کا کہنا تھا کہ انہیں یہ بات عجیب و غریب محسوس ہوئی کہ کوئی شخص کوچنگ کا تجربہ نہ رکھنے کے باوجود بھی ایسا دعوی کرسکتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ جب آپ ٹی وی پر بطور تجزیہ کار اپنی رائے دیتے ہیں تو آپ کا حق ہے، انہیں ان لوگوں پر تنقید کرنی چاہئے جو کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کررہے اور کیوں نہیں کر سکتے ہیں؟ ،یہی کرکٹ ماہرین کا کام ہے لیکن مجھے یہ بات بہت عجیب لگتی ہے جب وہ کہتے ہیں کہ اگر وہ لاہور قلندرز کے انچارج ہوتے تو اب تک کم از کم 2 پی ایس ایل ٹائٹلز جیت سکتے تھے، یہ بات اگر کوئی بڑا کوچ جس نے میدان میں 10 سے 20 سال گزارے ہوں اور بہت سے ٹائٹل جیتے ہوں کہے تو سمجھ بھی آئے گی ۔

انہوں نے کہا کہ جب ہم نے6 میں سے 5 میچز جیتے تو مخالف ٹیمیں ہمیں دیکھ رہی تھیں کہ ہماری بولنگ کتنی عمدہ ہے اور ہمارے پاس بہت سارے بیٹنگ آپشنز موجود ہیں، اس وقت ہمیں شکست دینا واقعتا مشکل تھا، اس وقت کوئی نہیں کہہ رہا تھا کہ یہ سب عاقب جاوید کی وجہ سے ہے، جب آپ کے بولر ، بلے باز اور فیلڈرز کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کرتے تو آپ غلط ٹیم سلیکشن کے لیے کسی کوچ کو مورد الزام ٹھہرا سکتے ہیں، ہوسکتا ہے کہ ہم بہتر لوگوں کا سکواڈ تیار کرسکیں یا بہتر پلیئنگ الیون بناسکیں، انہیں ان تکنیکی تفصیلات کے بارے میں بات

کرنی چاہئے، جس شخص نے اپنی زندگی میں کچھ نہیں کیا اس کے بارے میں کوئی فرد کیا کہہ سکتا ہے؟ ،آپ نے جو کچھ نہیں کیا وہ دیکھنے والے کے لئے ہمیشہ آسان لگتا ہے۔

لاہور قلندرز کے کوچ نے اپنی ٹیم کا موازنہ آئی پی ایل فرنچائزز سے کرتے ہوئے کہا کہ بلے بازوں نے ہماری ٹیم کو مایوس کیا ۔ ان کا کہنا تھا کہ شائقین کا دکھ پوری طرح سے درست ہے ،بعض اوقات ٹیمیں پھنس جاتی ہیں، اگر آپ پوری دنیا میں دیکھیں تو بہت ساری بڑی ٹیموں نے ابھی تک اپنی اپنی لیگز میں ٹائنٹل نہیں جیتا، میں نہیں جانتا کہ اس کی وجہ کیا ہے اور چیزیں کبھی کبھی کلک کیوں نہیں ہوتی ہیں لیکن مالکان نے ٹیم میں لاکھوں کی سرمایہ کاری کی ہے اور وہ اسے صرف کسی اور کے حوالے نہیں کرسکتے ہیں۔

رائل چیلنجرز بنگلور ، کنگز الیون پنجاب اور دہلی کیپیٹلز کی مثال دیکھیں، دہلی نے اپنا نام تبدیل کیا لیکن اس سے کوئی فائدہ نہیں ہوا، ان ٹیموں نے پچھلے 12 سالوں میں بڑی فرنچائز ہونے کے باوجود کامیابی حاصل نہیں کی۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ کوئی بھی ٹیم جو شروع میں 6میں سے 5 میچ جیتتی ہے ، ان کے لئے اگلے راؤنڈ کے لئے کوالیفائی کرنا بہت آسان ہونا چاہئے، جب مارچ میں پی ایس ایل ملتوی ہوئی تب بھی تین ٹیموں نے 5،5 میچ جیت رکھے تھے، ہم رن ریٹ کی وجہ سے پلے آف مقابلوں سے باہر ہوئے ،افسوسناک بات یہ ہے کہ ہم 4 میچ مسلسل ہار گئے حالانکہ ہم ان میچوں میں بھی اچھی پوزیشن میں تھے،ایسا نہیں تھا کہ ہم کسی بہت بڑے سکور کا پیچھا کر رہے ہوں۔

اس مرتبہ ٹاپ آرڈر کی بیٹنگ ہمارے لئے مصیبت ثابت ہوئی ، اگر لوگ مجھ سے اس کی اصلی یا تکنیکی وجہ پوچھتے ہیں تو اس کی وجہ یہ ہے کہ بلے بازوں میں سے کوئی بھی ٹاپ آرڈر میں نصف سنچری سکور کرنے میں ناکام رہا، ایسے میں کسی بھی ٹیم کا جیتنا بہت مشکل ہوجاتا ہے، مجھے نہیں لگتا کہ لاہور جس طرح کھیل رہا تھا وہ پلے آف مرحلے کے لیے کوالیفائی کرنے کا اہل تھا ۔

(function() {

var loaded = false;
var loadFB = function() {
if (loaded) return;
loaded = true;
(function (d, s, id) {
var js, fjs = d.getElementsByTagName(s)[0];
if (d.getElementById(id)) return;
js = d.createElement(s);
js.id = id;
js.src = “http://connect.facebook.net/en_US/sdk.js#xfbml=1&version=v3.0”;
fjs.parentNode.insertBefore(js, fjs);
}(document, ‘script’, ‘facebook-jssdk’));
};
setTimeout(loadFB, 0);
document.body.addEventListener(‘bimberLoadFbSdk’, loadFB);
})();